ہوناور:6/ نومبر (ایس اؤنیوز)سرکاری سطح پر منظورشدہ منصوبے کو رکن اسمبلی کی مداخلت سے اس کو دوسری طرف منتقل کئے جانے کی خبر ایک معتبر سمجھے جانے والے کنڑا اخبار نے دی ہے۔ جس کاپتہ چلتے ہی ہوناور کے عوام کے اندر ناراضگی پائی جارہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ماوین کوروے سے ہوناور کو جوڑنے والے برج کی تعمیر کے لئے سرکاری ٹنکنکل ماہرین کی طرف سے نشان کردہ جگہ کو رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے بد نیتی کے چلتے بدلنے کی تیاری کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عوامی نمائندے کی متعصبانہ ذہنیت سے منظور شدہ برج کا تعمیری کام کی مٹی پلید ہونے والی ہے جس سے یہ معاملہ عوامی سطح پر برہمی کا سبب بن گیاہے۔
تعلقہ کی ماوین کوروے دیہات تعلقہ مرکز ہوناور سے صرف 350میٹر کی دوری پر واقع ہے ، لیکن جوڑنے والا پل نہ ہونے کی بنا پر عوام 24کلومیٹر کا چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ جس سے روز مرہ کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ دیہات میں مزدور، چھوٹے موٹے کسان اکثریت میں بستے ہیں۔ شہر جانے کے لئے قریبی راستہ نہ ہونے سے کسانوں ، بیوپاریوں اور طلبا کےعلاوہ مریضوں کو بھی کافی تکالیف کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے 25برسوں سے علاقہ کے بزرگ دیہات کے لئے ایک برج کی تعمیر کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ عوام کامطالبہ پورا کرنے کے لئے دھارواڑ کے رابطہ اور تعمیراتی محکمہ کے چیف انجنئیر کی سفارش پر سرکار نے 2017-01-31کو سرکاری سرکلر نمبر ایل، ای /34/ای اے پی 2014کے تحت علاقے میں شراوتی ندی پر 40کروڑروپیوں کی لاگت سے ماوین کوروے ۔ ہوناور کو جوڑنے کے لئے پُل تعمیر کرنے کو منظوری دی تھی ، جس کے بعد کے آر ڈی سی ایل محکمہ نے سروے کرتےہوئے تعمیراتی الائن منٹ اور بیلوکوروا کے قریب والے ریلوے برج سے ہوناور کو جوڑنے کے لئے مناسب و موزوں ہونے کی سند بھی دے چکے تھے۔ بتایا گیا تھا کہ برج کی لمبائی 340میٹر اور چوڑائی 10.5میٹر ہوگی جس کے لئے اندازاً لاگت 40کروڑروپئے کے لئے ٹینڈر کاکام مکمل ہوچکاتھا۔
لیکن اس دوران کنڑا اخبارکی رپورٹ کے مطابق بھٹکل ۔ ہوناور حلقہ کے رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے اپنے حمایتیوں کی طرف سے پیش کردہ دوسری جگہ سے برج کی تعمیر شروع کئے جانے کی ضد کی، تو اُن کی بات کو مانتے ہوئے دوسری جگہ سے برج کی تعمیر کرنےکی کوشش کی گئی ۔ لیکن محکمہ اور ٹیکنیکل ماہرین نے رکن اسمبلی اور ان کے حمایتیوں کی طرف سے بتائی گئی جگہ پر ندی کے پانی کی گہرائی ، لہروں کا زور اورگھماؤ وغیرہ ہونے سے اُسے غیر سائنٹفک اور زائد لاگت کا کام بتایا اور بعد میں رکن اسمبلی کوبھی جانکاری دے کر اُس کو رد کردیا ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیلوکوروا کے قریب والے ریلوے برج کے بازو سے ہی ہوناور کو جوڑنا ہر لحاظ سے مناسب و موزوں ہونے کی محکمہ نے سرکار کو اپنی حتمی رپورٹ سونپی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوام نے منکال وئیدیا کی طرف سے متعلقہ منصوبے کو بدل کر دوسری جگہ لے جانے پر سخت اعتراض جتایاہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیہات کے الوریس سلوادر ڈائس نامی شخص ، جو پچھڑی دیہات کے ایک معمولی شہری ہیں نے وزیراعلیٰ کو برج کی ضرورت بتاتے ہوئے درخواست دی تھی ۔ وزیر اعلیٰ کے سکریٹری نے اس کو فوری قبول کرتے ہوئے ضروری کارروائی کے لئے اترکنڑا ضلع کے ڈی سی کو ہدایات جاری کی۔ اخبار کے مطابق ایک بہت ہی پچھڑی دیہات کے عام معمولی شہری کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے برج تعمیر کا حکم جاری کرنے پر وزیرا علیٰ کی ستائش کی ہے۔
اخبار نے گرام پنچایت کے سابق ممبر نارائن شیویا گوڈا کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سلسلے میں ٹکنکل محکمہ کی رپورٹ سے پریشان ہوکر رکن اسمبلی اور ان کے حمایتی منظور شدہ برج کے لئے اب سدراہ بن گئے ہیں اور برج کو دوسرے دیہات منتقل کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ اب یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ آیا یہ برج متعلقہ جگہ پر تعمیر ہوتی ہے یا نہیں۔۔۔